السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: صحة البيع الذي وقع فيه التدليس مع ثبوت الخيار فيه باب: اس بیع کے صحیح ہونے کا بیان جس میں دھوکہ دہی واقع ہوئی ہو، ساتھ ہی اس میں خیار (سودا منسوخ کرنے کا اختیار) ثابت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: اشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَرِيكِ النَّوَّاسِ إِبِلًا هِيمًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى إِبِلًا هِيَامًا مِنْ شَرِيكٍ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ نَوَّاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَخْبَرَ نَوَّاسًا أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ شَيْخٍ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ نَوَّاسٌ: وَيْلَكَ ذَاكَ ابْنُ عُمَرَ فَجَاءَ نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيَامًا وَلَمْ يُعَرِّفْكَ، قَالَ: " فَاسْتَقْهَا إِذًا "، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَسْتَاقَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ هِيمٌ.حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے۔
(ب) عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے تو اس نے نواس کو بتایا کہ میں نے فلاں شیخ کو فروخت کر دیے ہیں۔ نواس کہنے لگے: افسوس تجھ پر! وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ گئے اور کہنے لگے کہ میرے ساتھی نے آپ کو پیاس کی بیماری والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں، وہ آپ کو جانتا نہ تھا۔ انہوں نے فرمایا: ان کو ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے کے لیے ہانکنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چھوڑو! ہم رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی ہیں کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“