السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الخراج بالضمان والرد بالعيوب وغير ذلك -- باب: ما جاء في التدليس وكتمان العيب بالمبيع باب: الخراج بالضمان (منافع ضمانت کے بدلے ہیں) اور عیوب کی وجہ سے چیز واپس کرنے اور دیگر مسائل پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: فروخت کی جانے والی چیز میں دھوکہ دہی اور عیب چھپانے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10733
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ " قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ داخل کر دیا تو آپ ﷺ کی انگلیوں کو تری لگی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے غلے والے! یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش آ گئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ اس کو ڈھیر کے اوپر کر دیتے تاکہ لوگ دیکھ لیں، جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔“