السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الخراج بالضمان والرد بالعيوب وغير ذلك -- باب: ما جاء في التدليس وكتمان العيب بالمبيع باب: الخراج بالضمان (منافع ضمانت کے بدلے ہیں) اور عیوب کی وجہ سے چیز واپس کرنے اور دیگر مسائل پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: فروخت کی جانے والی چیز میں دھوکہ دہی اور عیب چھپانے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10732
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَقَالَ: " كَيْفَ تَبِيعُ؟ " فَأَخْبَرَهُ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ " أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ " فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو غلہ فروخت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیسے فروخت کر رہے ہو؟“ اس نے بتایا۔ آپ ﷺ کو وحی آئی کہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کرو، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ داخل کیا، اچانک وہ تر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں ہے۔“