السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَمَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، فَإِنْ حَلَبَهَا وَرَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا شَكًّا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَقَالَ: صَاعًا مِنْ هَذَا أَوْ مِنْ ذَلِكَ لَا أَنَّهُ مِنْ وَجْهِ التَّخْيِيرِ؛ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِلْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی یعلیٰ صحابہ میں سے کسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”رات کے وقت تجارتی قافلے کو ملنے سے منع فرمایا اور شہری دیہاتی کے لیے بیع کرے اس سے بھی روکا۔“ ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے، اگر اس کا دودھ دوہنے کے بعد پسند کرے تو اس کو رکھ لے۔ اگر واپس کرے تو ایک صاع غلے یا ایک صاع کھجور کا ساتھ دے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بعض راویوں کا شک ہے کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے، نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہو جائے۔