السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اس کا دودھ نکالتا ہے، اگر اسے پسند ہے تو روک لے۔ اگر اس کو ناپسند ہے تو اس کے دودھ کے عوض ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔“
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کا نقل فرماتے ہیں۔