السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرجل يبتاع طعاما كيلا فلا يبيعه حتى يكتاله لنفسه، ثم لا يبرأ حتى يكيله على مشتريه باب: ایک آدمی ماپ کر غلہ خریدتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اپنے لیے ماپ کر قبضہ نہ کر لے، پھر وہ اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہوگا جب تک اپنے خریدار کو بھی ماپ کر نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 10700
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالُوا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِي " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”غلہ کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، یہاں تک کہ اس میں دو مرتبہ «صَاع» جاری ہو۔“ یعنی دو مرتبہ ماپا جائے، خریدنے والے کا «صَاع» اور فروخت کرنے والے کا «صَاع» دونوں ہی ماپ کر فروخت کریں۔