السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرجل يبتاع طعاما كيلا فلا يبيعه حتى يكتاله لنفسه، ثم لا يبرأ حتى يكيله على مشتريه باب: ایک آدمی ماپ کر غلہ خریدتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اپنے لیے ماپ کر قبضہ نہ کر لے، پھر وہ اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہوگا جب تک اپنے خریدار کو بھی ماپ کر نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 10699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يَجْلِبَانِ الطَّعَامَ مِنْ أَرْضِ قَيْنُقَاعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَبِيعَانِهِ بِكَيْلِهِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ جَلَبْنَاهُ مِنْ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا وَنَبِيعُهُ بِكَيْلِهِ، قَالَ: " لَا تَفْعَلَا ذَلِكَ إِذَا اشْتَرَيْتُمَا طَعَامًا فَاسْتَوْفِيَاهُ فَإِذَا بِعْتُمَاهُ فَكِيلَاهُ " ⦗٥١٦⦘ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.حافظ ثناء اللہ
مطر وراق بعض صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حکیم بن حزام اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما یہ دونوں قینقاع کی زمین سے غلہ لے کر مدینہ آتے، وہ دونوں اس کو ماپ کر فروخت کرتے، ان کے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ وہ دونوں کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! ہم فلاں زمین سے سامان لاتے ہیں اور ماپ کر فروخت کرتے ہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم خریدو اس وقت ایسا نہ کرو بلکہ اس کو اپنے قبضہ میں لو اور جب فروخت کرو تو ماپ لیا کرو۔“