السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التيمم في السفر إذا خاف الموت أو العلة من شدة البرد باب: سفر میں شدید سردی کی وجہ سے موت یا بیماری کا خوف ہونے پر تیمم کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلَتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِيَ الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ " فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: ٢٩] فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ فَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا.سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا، میں ڈر گیا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ یہ بات میں نے نبی ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا آپ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی حالانکہ آپ جنبی تھے؟“ میں نے آپ ﷺ کو وہ وجہ بتا دی جس نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا اور میں نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29] سنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور آپ ﷺ نے کچھ نہیں کہا۔