السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرجل يبتاع طعاما كيلا فلا يبيعه حتى يكتاله لنفسه، ثم لا يبرأ حتى يكيله على مشتريه باب: ایک آدمی ماپ کر غلہ خریدتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اپنے لیے ماپ کر قبضہ نہ کر لے، پھر وہ اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہوگا جب تک اپنے خریدار کو بھی ماپ کر نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 10697
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: كُنْتُ أَشْتَرِي الْأَوْسَاقَ فَأَجِيءُ بِهَا إِلَى سُوقِ كَذَا فَيَأْخُذُونَهَا مِنِّي كَيْلًا وَيُرْبِحُونَنِي فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا ابْتَعْتَ كَيْلًا فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ كَيْلًا فَكِلْ " وَرُوِي عَنْ مُنْقِذٍ مَوْلَى سُرَاقَةَ، عَنْ عُثْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں کئی وسق خرید کر بازار میں لاتا، وہ مجھ سے ماپ کر لیتے اور مجھے نفع دیتے، میں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو ماپی ہوئی چیز کو خریدے تو خود بھی ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کر دیا کرو۔“