حدیث نمبر: 10696
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا جَدِّي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنِّي كُنْتُ أَشْتَرِي التَّمْرَ كَيْلًا فَأَقْدَمُ بِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ أَحْمِلُهُ أَنَا ⦗٥١٥⦘ وَغِلْمَانٌ وَذَلِكَ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بِسُوقِ قَيْنُقَاعَ فَأَرْبَحُ الصَّاعَ وَالصَّاعَيْنِ فَأَكْتَالُ رِبْحِي ثُمَّ أُصُبُّ لَهُمْ مَا بَقِيَ مِنَ التَّمْرِ، فَحُدِّثَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَيْتَ يَا عُثْمَانُ فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ " رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْكِبَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لَهِيعَةَ، وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے ماپی ہوئی کھجور خریدی، میں دس کو لے کر مدینہ آیا، میں اور میرے دو غلام سوار تھے اور یہ مدینہ کے قریب بنو قینقاع کے بازار میں تھا۔ میں ایک صاع یا دو صاع منافع لیتا تھا۔ میں اپنے منافع کو ماپ لیتا تھا، پھر باقی ماندہ کھجوریں انہیں ڈال دیتا۔ یہ نبی ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ!“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عثمان! جب اناج خریدو تو خود بھی ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کردیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10696
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 62»