السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: قبض ما ابتاعه كيلا بالاكتيال باب: جو چیز ماپ کر خریدی گئی ہو اسے ماپ کر ہی قبضے میں لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10686
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ " فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ؟ قَالَ: أَلَا تَرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ؟ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ..حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے غلہ خریدا اتنی دیر فروخت نہ کرے جب تک اس کو ماپ نہ لے۔“ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیوں؟ فرمایا: آپ دیکھتے نہیں کہ وہ آپس میں سونے کی تجارت کرتے ہیں اور غلہ وہی پڑا ہوتا ہے۔