السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع ما لم يقبض، وإن كان غير طعام باب: جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان خواہ وہ غلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 10685
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، وَسَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّلْحِيُّ، وَهَذَا لَفْظُ الْأَشْيَبِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: ⦗٥١٢⦘ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَبْتَاعُ هَذِهِ الْبُيُوعَ فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ؟ قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي لَا تَبِيعَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَقْبِضَهُ " هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبَانُ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَالَ أَبَانُ فِي الْحَدِيثِ: " إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ " وَبِمَعْنَاهُ قَالَ هَمَّامٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں یہ سامانِ تجارت خریدتا ہوں، میرے لیے اس سے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بھتیجے! تو کسی چیز کو بھی قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرنا۔“
(ب) ابان نے حدیث میں کہا کہ جب آپ سامان خریدیں تو ”قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرنا۔“