السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع الطعام قبل أن يستوفى باب: غلہ (کھانے پینے کی اشیاء) کو پورا وصول کرنے سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10678
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " أَلَمْ أُنَبَّأْ، أَوْ أَلَمْ أُخْبَرْ، أَوْ أَلَمْ يَبْلُغْنِي، أَوْ كَمَا شَاءَ اللهُ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ؟ " قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ " مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی، یا کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا، یا کیا مجھے یہ بات نہیں پہنچی، یا جیسے اللہ نے چاہا، کہ تو غلہ فروخت کرتا ہے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو طعام خریدے تو قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا کر۔“ دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہے۔