السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تفسير العرايا باب: بیعِ عرایا کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ يَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“ ہے، لیکن ”«عَرَايا» میں رخصت دی“ ہے اور «عَرِيَّة» کھجور کا درخت قوم کے لیے مختص ہے اب وہ اس کے پھل کے اندازے سے خشک کھجور حاصل کر لیتے ہیں۔