السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من باع ثمر حائطه، واستثنى منه مكيلة مسماة فلا يجوز؛ لنهيه عن الثنيا؛ ولما فيه من الغرر باب: جو شخص اپنے باغ کا پھل بیچے اور اس میں سے ایک مقررہ ماپ کا استثناء کر لے تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے (غیر معین) استثناء (ثنیا) سے منع فرمایا ہے، اور اس لیے کہ اس میں دھوکہ (غرر) پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10621
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ أَبُو حَفْصٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”«الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ) اور «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے منع فرمایا اور «الثُّنْيَا» (ثنیا) سے بھی، لیکن اگر معلوم ہو تو درست۔“