السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما يذكر في بيع الحنطة في سنبلها باب: گندم کو اس کی بالی کے اندر رہتے ہوئے فروخت کرنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 10616
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبُدُوُّ صَلَاحِهِ فِيمَا يَقُولُ الْعُلَمَاءُ أَنْ يَزْهُوَ وَبُدُوُّ صَلَاحِ الزَّرْعِ أَنْ يُرَى فِيهِ الْفَرْكُ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“۔
«قَالَ الزُّهْرِيُّ» ”امام زہری رحمہ اللہ نے کہا:“ علماء کہتے ہیں کہ وہ زرد ہو جائے اور کھیتی کا پکنا یہ ہے کہ بالی کٹنے کے قابل ہو جائے۔