❮
❯
حدیث نمبر: 10615
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعَمَ " وَرُوِي عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ أُمِّ ثَوْرٍ أَنَّ زَوْجَهَا بِشْرًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ مَتَى يَشْتَرِي النَّخْلَ؟، قَالَ: " حَتَّى يَزْهُوَ "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ شِرَاءِ الزَّرْعِ وَهُوَ السُّنْبُلُ، قَالَ: " حَتَّى يَصْفَرَّ " وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَةُ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، ثُمَّ رِوَايَةُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي لَفْظِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”دانے کے نکلنے کے قابل ہونے، کھجور کے پکنے اور پھل کے کھانے کے قابل ہونے تک فروخت سے منع فرمایا ہے“۔
(ب) جابر جعفی، ام ثور سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے خاوند بشر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کھجور کو کب فروخت کیا جائے؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ پک جائے۔ بشر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھیتی کی فروخت کے بارے میں سوال کیا جب وہ بالیوں میں ہو تو انہوں نے فرمایا: جب وہ زرد ہو جائے۔
اسے ابوشیبہ کے واسطے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔ یہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما والی) سند ضعیف ہے، اور اس باب میں صحیح روایت ایوب سختیانی کی ہے، پھر حماد بن سلمہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیے۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10615
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»