السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما يذكر في بيع الحنطة في سنبلها باب: گندم کو اس کی بالی کے اندر رہتے ہوئے فروخت کرنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا بِالْحَدِيثِ الَّذِي وَرَدَ فِي ذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَذِكْرِ السُّنْبُلِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِ نَافِعٍ، وَأَيُّوبُ ثِقَةٌ حُجَّةٌ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا اخْتَلَفَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحِ فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَدْ رَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَغَيْرُهُمْ عَنْ نَافِعٍ، لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ غَيْرُ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ، وَرَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ إِلَّا مَا:.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کھجور کے پکنے سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے اور گندم کی بالیوں کی بیع سے (منع فرمایا ہے) جب تک کہ وہ سفید نہ ہو جائیں اور وہ آفات سے محفوظ ہو جائیں۔“ آپ ﷺ نے خریدنے اور فروخت کرنے والے کو منع فرمایا ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بالیوں کا ذکر نافع کے شاگردوں میں سے صرف ایوب سختیانی نے نافع سے کیا ہے، اور ایوب ثقہ اور حجت ہیں، ان جیسے راوی کا اضافہ مقبول ہے۔
(ج) ایوب کے علاوہ کسی نے بھی نافع سے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ ﷺ نے بالیوں کے سفید ہونے تک انہیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔