السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما يذكر في بيع الحنطة في سنبلها باب: گندم کو اس کی بالی کے اندر رہتے ہوئے فروخت کرنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 10611
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا ⦗٤٩٤⦘ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قُلْنَا لِلشَّافِعِيِّ: إِنَّ عَلِيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَخْبَرَنَا بِإِسْنَادٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَجَازَ بَيْعَ الْقَمْحِ فِي سُنْبُلِهِ إِذَا ابْيَضَّ، فَقَالَ: " أَمَّا هُوَ فَغَرَرٌ؛ لِأَنَّهُ مَحُولٌ دُونَهُ لَا يُرَى "، فَإِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِهِ، وَكَانَ هَذَا خَاصًّا مُسْتَخْرَجًا مِنْ عَامٍّ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَأَجَازَ هَذَا.حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان کہتے ہیں: ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ علی بن معبد رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے گندم کو بالیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دی جب بالیاں سفید ہو جائیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی یہ (بیع) تو یہ دھوکا ہے، کیونکہ اس (دانے) کے آگے رکاوٹ ہے، وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہو جائے تو ہم اسی کے قائل ہوں گے، اور یہ خاص ہوگا جو عام سے نکالا گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔“