حدیث نمبر: 10611
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا ⦗٤٩٤⦘ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قُلْنَا لِلشَّافِعِيِّ: إِنَّ عَلِيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَخْبَرَنَا بِإِسْنَادٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَجَازَ بَيْعَ الْقَمْحِ فِي سُنْبُلِهِ إِذَا ابْيَضَّ، فَقَالَ: " أَمَّا هُوَ فَغَرَرٌ؛ لِأَنَّهُ مَحُولٌ دُونَهُ لَا يُرَى "، فَإِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِهِ، وَكَانَ هَذَا خَاصًّا مُسْتَخْرَجًا مِنْ عَامٍّ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَأَجَازَ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ

علی بن معبد رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اجازت دی، اور گندم جب بالیوں میں موجود ہو اور بالیاں سفید ہو جائیں، تو فرمایا: ”وگرنہ دھوکا ہے کیونکہ یہ اس کے درمیان رکاوٹ ہے۔“ اگر یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہو تو ہم کہیں گے: یہ خاص ہے جو عام سے نکالا گیا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10611
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ذكر الشافعي في الام 3/81»