حدیث نمبر: 1060
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: " وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ " قَالَ: " وَالْخَامِسَةُ قِيلَ لِي: ⦗٣٤١⦘ سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال رات کو نماز کے ساتھ قیام کیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات مجھ کو پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔۔۔ میرے لیے زمین مسجد اور وضو کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہو جائے، میں مسح کروں گا اور نماز پڑھ لوں گا“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچویں چیز جو مجھ سے کہی گئی: آپ سوال کریں، ہر نبی نے سوال کیا، میں نے اپنا سوال قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے، وہ تمہارے لیے ہو گا (یعنی امت کے لیے) اور وہ (سفارش) ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کی گواہی دیتا ہو گا“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1060
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه احمد 2/222»