السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10596
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَمَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: " تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ "، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إنْ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے“، میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس کا پکنا کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سرخ و زرد ہو جانا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ تعالیٰ پھل کو روک لے تو پھر اپنے بھائی کے مال کو کیوں کر حلال سمجھو گے؟“