السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ: " حَتَّى تَحْمَرَّ "، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَقُولَا يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ قَالَا، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ؟ " وَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَقِيلَ لَهُ وَقَالَ الْآخَرُ: قَالُوا، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ مَالِكٍ كَمَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا پکنا کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سرخ ہو جائے“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پھل کو روک لیں تو پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں کر لو گے؟“
(ب) ابوطاہر، ابن وہب اور وہ امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ”یا رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور نہ ہی ”قال رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر کیے ہیں، بلکہ ان دونوں نے کہا: «أَرَأَيْتَ» ”تمہارا کیا خیال ہے“، ان میں سے ایک نے «فَقِيلَ لَهُ» ”پس ان سے کہا گیا“ اور دوسروں نے «قَالُوا» ”انہوں نے کہا“ کے الفاظ بولے ہیں۔