السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ مَا صَلَاحُهُ؟ قَالَ: تَذْهَبُ عَاهَتُهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى.حافظ ثناء اللہ
شعبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ پھل کا پکنا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کی آفات ختم ہو جائیں۔