السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10587
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ " وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ، " عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ " وَقَالَ الْمُشْتَرِيَ بَدَلَ الْمُبْتَاعِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، ⦗٤٨٩⦘ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے،“ آپ ﷺ نے ”خریدنے اور فروخت کرنے والے (دونوں) کو منع فرمایا ہے“۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھلوں کی بیع اور مشتری کی جگہ مبتاع کے لفظ ہیں۔