السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التيمم لكل فريضة باب: ہر فرض نماز کے لیے نیا تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِالتَّيَمُّمِ إِلَّا صَلَاةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَتَيَمَّمُ لِلصَّلَاةِ الْأُخْرَى " قَالَ عَلِيٌّ: الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ قُلْتُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ آدمی ایک تیمم سے ایک نماز پڑھے، پھر دوسری نماز کے لیے نیا تیمم کرے۔ (ب) علی کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ ضعیف ہے۔ (ج) میں کہتا ہوں کہ ابو یحییٰ حمانی نے حسن بن عمارہ سے روایت کیا ہے۔