السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يباع المصوغ من الذهب والفضة بجنسه بأكثر من وزنه استدلالا بما مضى من الأحاديث الثابتة في الربا باب: ”سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات کو ان کی جنس کے عوض ان کے وزن سے زیادہ پر فروخت نہیں کیا جائے گا“، سود کے باب میں گزر چکی ثابت احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10549
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَجْلِسُ عِنْدِي فَيُعَلِّمُنِي الْآيَةَ فَأَنْسَاهَا فَأُنَادِيهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ نُسِّيتُهَا فَيَرْجِعُ فَيُعَلِّمُنِيهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ فَأَبِيعُهُ بِوَزْنِهِ وَآخُذُ لِعُمَالَةِ يَدِي أَجْرًا، قَالَ: لَا تَبِعِ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَلَا تَأْخُذْ فَضْلًا.حافظ ثناء اللہ
ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھتے، وہ مجھے آیت سکھاتے۔ وہ مجھے بھول گئی، میں ان کو آواز دیتا: اے امیر المؤمنین! میں بھول گیا ہوں۔ وہ واپس آئے اور مجھے وہ آیت سکھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں سونے کے زیورات بناتا ہوں میں اس کے وزن کے ساتھ فروخت کر دیتا ہوں۔ کیا میں اپنی مزدوری لے لیا کروں؟
انہوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔