السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع الحيوان وغيره مما لا ربا فيه بعضه ببعض نسيئة باب: جانوروں اور ان جیسی دیگر اشیاء جن میں سود نہیں ہوتا، ان کی ایک دوسرے کے عوض ادھار بیع (خرید و فروخت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10528
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ ⦗٤٧١⦘ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، أَنَبِيعُ الْبَقَرَةَ بِالْبَقَرَتَيْنَ وَالْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ وَالشَّاةَ بِالشَّاتَيْنِ؟ فَقَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ نَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ: " خُذْ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ " قَالَ: فَجَعَلْتُ آخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفُوا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي إِسْنَادِهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقَةً لَهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حریش کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں سونا چاندی نہیں ہوتا، کیا ہم ایک گائے دو کے عوض خرید لیں، ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوض، ایک بکری دو بکریوں کے عوض خرید لیں؟ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اونٹ ختم ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کے اونٹ لے لو۔“ کہتے ہیں: میں ایک اونٹ دو کے عوض لے رہا تھا، صدقہ کے اونٹوں سے۔