السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا ربا فيما خرج من المأكول والمشروب والذهب والفضة باب: ”کھانے پینے کی اشیاء، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور چیز میں سود نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 10524
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَعِيرٍ بِبَعِيرَيْنِ، فَقَالَ: " قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ " وَرُوِّينَا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ اشْتَرَى بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ، فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا وَقَالَ: آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اونٹ کو دو کے عوض خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا، وہ فرماتے ہیں کہ: ”کبھی ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہوتا ہے۔“
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک اونٹ دو کے عوض خریدا، انہوں نے ایک تو دے دیا اور کہا: ”دوسرا کل صبح آرام سکون سے لا کر دوں گا۔“