السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا ربا فيما خرج من المأكول والمشروب والذهب والفضة باب: ”کھانے پینے کی اشیاء، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور چیز میں سود نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 10522
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ " فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ؟، ⦗٤٧٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کرلی۔ آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے۔ اس کا سردار آیا اس کا ارادہ رکھتا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ آپ ﷺ نے اس کو دو سیاہ غلاموں کے عوض خریدا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک پوچھا نہیں کہ کیا وہ غلام ہے؟