السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: التقابض في المجلس في الصرف، وما في معناه من بيع الطعام بعضه ببعض باب: بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) میں اسی مجلس میں قبضہ کرنے، اور اسی کے ہم معنی کھانے پینے کی اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع کا بیان۔
حدیث نمبر: 10510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ: أَرَدْتُ صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: أَنَا أَصْرِفُكَ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ: " الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ " وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ كَمَا مَضَى.حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رقم کا تبادلہ کر دیتا ہوں لیکن (ٹھہر جاؤ) یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ سے واپس آ جائے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے، ماسوائے نقد لین دین کے۔“
اسی طرح اس روایت میں ہے کہ ”چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے۔“