السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: التقابض في المجلس في الصرف، وما في معناه من بيع الطعام بعضه ببعض باب: بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) میں اسی مجلس میں قبضہ کرنے، اور اسی کے ہم معنی کھانے پینے کی اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ الدِّينَارِ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ، فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُفَارِقْهُ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا " وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا جَاءنا الزُّهْرِيُّ تَفَقَّدْتُهُ فَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا "، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ سَوَاءً، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، يَعْنِي فِي الصَّرْفِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِيهِ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں سو دینار لے کر آیا، میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہمارے پاس سکے ہیں، لیکن آپ ہمارے خزانچی کا انتظار کریں وہ غابہ سے آنے والا ہے اور طلحہ نے مجھ سے سو دینار لے لیے۔ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ ان سے جدا نہ ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”سونا چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ما سوائے نقد لین دین کے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ جب ہم زہری کے پاس آئے تو میں نے ان کو موجود نہ پایا، انہوں نے یہ کلام ذکر نہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے مالک بن اوس بن حدثان سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونا چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے، لیکن برابر، برابر۔“