حدیث نمبر: 10507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ، قَالَ: بِعْ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ يَأْخُذُ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ شَعِيرًا قِيلَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، فَهَذَا الَّذِي كَرِهَهُ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِي الرِّبَا احْتِيَاطًا مِنْ جِهَتِهِ لَا رِوَايَةً، وَالرِّوَايَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَّةً تَحْتَمِلُ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا أَنْ يَكُونَ أَرَادَ الْجِنْسَ الْوَاحِدَ دُونَ الْجِنْسَيْنِ، أَوْ هُمَا مَعًا، لَمَّا جَاءَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بِقَطْعِ أَحَدِ الِاحْتِمَالَيْنِ نَصًّا وَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غلام کو ایک صاع گندم کا دے کر روانہ کیا کہ جاؤ اس کو فروخت کر کے پھر جَو خرید لینا، غلام گیا اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لیا، جب معمر رضی اللہ عنہ آئے تو غلام نے خبر دی، معمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو نے ایسا کیوں کیا؟ جاؤ اس کو واپس کرو صرف برابر برابر لینا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”کھانا کھانے کے بدلے برابر برابر ہو“ اور ان دنوں ہمارا کھانا جَو تھا۔ کہا گیا: یہ اس کی مثل نہیں ہے، فرمانے لگے: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اس کے مشابہ نہ ہو۔
اس کو معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پسند کیا کہ کہیں وہ سود میں نہ پڑ جائیں۔
نبی ﷺ سے عام روایت ہے، وہ دو احتمالوں کو شامل ہے: ۱۔ صرف ایک جنس ہی مراد ہو۔ ۲۔ یا دونوں اکٹھی ہوں۔
اس لیے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے دو احتمالوں میں سے ایک کو باقی رکھا، اسی کی جانب لوٹا جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1592»