حدیث نمبر: 10506
وَرَوَاهُ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَقَالَ، فِي الْحَدِيثِ: " وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، فَأَمَّا النَّسِيئَةُ فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا النَّسِيئَةُ فَلَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت بشر بن عمر رحمہ اللہ، ہمام رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”سونے کے بدلے چاندی خریدنا جبکہ چاندی مقدار میں زیادہ بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سودا نقد ہو اور ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے، اسی طرح گندم کے عوض جو لینا اور جو مقدار میں زیادہ بھی ہوں، سودا نقد ہو لیکن ادھار میں جائز نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10506
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 3349»