السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء من التشديد في تحريم الربا باب: سود کی حرمت کے بارے میں وارد ہونے والی سختی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ " الْحَدِيثَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ أَوْ فَضَاءٍ " الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: " فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى نَهْرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رِجَالٌ قِيَامٌ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى شَطِّ النَّهْرِ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الَّذِي فِي النَّهْرِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ رَمَاهُ الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ؛ لِيَخْرُجَ رَمَاهُ فِي فِيهِ بِحَجَرٍ، فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَقُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهْرِ آكِلُ الرِّبَا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے رات کو خواب دیکھا ہے؟“
(ب) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رات کو دیکھا، میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے مجھے پکڑ کر ہموار زمین یا فضا کی طرف نکالا۔“
(ج) آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم خون والی نہر تک آئے، وہاں آدمی تھے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا تھا۔ جب نہر والا آدمی کی طرف متوجہ ہوتا اور نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا اور وہ شخص جو نہر کے باہر کھڑا ہے، اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ دوبارہ اس کو نہر میں دھکیل دیتا۔ وہ جب بھی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا اور واپس کر دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جس شخص کو آپ نے نہر میں دیکھا ہے وہ سود کھانے والا تھا۔“