السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: الْحَدِيثُ فِي الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَثْبَتُ مِنْ هَذِهِ الْأَسَاطِينِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ الْكُوفِيِّينَ بِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ: فَحَدَّثُوا بِهِ أَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ ⦗٤٤٧⦘ أَبُو حَنِيفَةَ: هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَا فِي سَفِينَةٍ؟، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ اللهَ سَائِلُهُ عَمَّا قَالَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ حدیث «الْبَیِّعَيْنِ بِالْخِیَارِ» الخ ”دو بیع کرنے والے اختیار سے ہیں یا دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں“ باقی قصہ کہانیوں سے زیادہ ثابت ہے۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی ﷺ سے «فِي الْبَیِّعَيْنِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا» کو کوفی بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے ابوحنیفہ سے بیان کیا ہے لیکن ابوحنیفہ اس کو کچھ بھی خیال نہ کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: اگر وہ دونوں ایک کشتی میں ہوں تب۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ سوال کریں گے جو اس نے کہا۔