حدیث نمبر: 1044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي أَفَأُصِيبُ مِنْهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرٌ فَقَالَ: " وَإِنْ مَكَثْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ ". يُقَالُ عَمُّهُ حَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النُّمَيْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ

معاویہ بن حکیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پانی سے دور ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری اہلیہ ہوتی ہے، کیا میں اس سے جماع کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کئی مہینے غائب رہتا ہوں (یعنی گھر سے باہر رہتا ہوں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ تو تین سال بھی رہے۔“ اس کے چچا کا نام حکیم بن معاویہ نمیری رضی اللہ عنہ تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1044
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»