السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المناهدة باب: سفر میں اخراجات کے لیے آپس میں چندہ یا حصہ ملانے (مناہدہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ⦗٤٢٤⦘ عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ، قَالَ: " فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ عَنْ طَعَامِكُمُ، اجْتَمِعُوا عَلَيْهِ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى يُبَارَكْ لَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
وحشی بن حرب بن وحشی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم جدا جدا کھاتے ہو، اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لو، اللہ تمہارے لیے برکت ڈالے گا۔“