السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الإرداف باب: سواری پر اپنے پیچھے کسی کو بٹھانے (ارداف) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ارْكَبْ وَأَتَأَخَّرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ⦗٤٢٣⦘ لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي، تَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ لِي؟ " قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا، اس کے پاس گدھا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! سوار ہو جائیے، میں پیچھے بیٹھ جاتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تو اپنے چوپائے کے آگے سوار ہونے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے لیکن تو اس کو میرے لیے کر دے“ یعنی اپنی خوشی سے اجازت دے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کے لیے کر دیا، یعنی آگے آپ سوار ہو جائیں۔