السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كيفية السير والتعريس وما يستحب من الدلجة باب: سفر کرنے اور رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالنے (تعریس) کا طریقہ اور رات کے سفر (دلجہ) کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10343
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي رُوَيْمٌ، يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٢٠⦘ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ وَأَعْطُوا حَقَّهُ الْكَلَأَ وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَامْضُوا عَلَيْهَا، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب زمین سرسبز و شاداب ہو تو تم اپنی سواریوں سے نیچے اترو، تم ان کو ان کے گھاس کا حق دو اور جب زمین پر ہریالی نہ ہو تو پھر اس سے جلدی گزر جاؤ اور رات کے سفر کو لازم پکڑو؛ کیونکہ رات میں زمین کی مسافت مختصر ہو جاتی ہے۔“