السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كيفية السير والتعريس وما يستحب من الدلجة باب: سفر کرنے اور رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالنے (تعریس) کا طریقہ اور رات کے سفر (دلجہ) کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10340
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ أَوْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ عَلَيْهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهُ مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ "،.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم شادابی میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حق دیا کرو اور جب تم قحط سالی اور خشک سالی میں سفر کرو تو پھر ان پر تیزی سے سفر کیا کرو اور جب تم رات کو پڑاؤ کرو تو راستے سے بچو کیونکہ رات کو یہ حشرات الارض کا ٹھکانا ہوتا ہے، ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔“