السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يجزي من العيوب في الهدايا باب: ہدی (قربانی کے جانور) میں ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 10247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَأَى هَدْيًا له فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی قربانیاں دیکھیں، ان میں ایک کانی اونٹنی تھی، فرمانے لگے: اگر خریدنے کے بعد کوئی عیب پیدا ہو تو اس کو قربان کر دو، اگر عیب خریدنے سے پہلے ہو تو تبدیل کر لو۔