حدیث نمبر: 10246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لَا تُجْزِي فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى " قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ.
حافظ ثناء اللہ

عبید بن فیروز کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ مجھے بیان کریں کون سے عیب نبی ﷺ نے قربانیوں میں مکروہ سمجھے یا منع فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو اس طرح کیا اور میرا ہاتھ نبی ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چار قسم کے عیب قربانیوں میں نہیں ہونے چاہییں: 1 کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ 2 بیمار جس کا مرض واضح ہو۔ 3 لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ 4 ٹوٹی ہوئی ہڈی جس کا گودہ، مغز ظاہر نہ ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میں کان اور سینگ میں عیب کو ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کو تو ناپسند کرے اسے چھوڑ دے، لیکن کسی دوسرے کے اوپر اس کو حرام نہ کر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10246
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2802»