السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يجزي من العيوب في الهدايا باب: ہدی (قربانی کے جانور) میں ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہوتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لَا تُجْزِي فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى " قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ.عبید بن فیروز کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ مجھے بیان کریں کون سے عیب نبی ﷺ نے قربانیوں میں مکروہ سمجھے یا منع فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو اس طرح کیا اور میرا ہاتھ نبی ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چار قسم کے عیب قربانیوں میں نہیں ہونے چاہییں: 1 کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ 2 بیمار جس کا مرض واضح ہو۔ 3 لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ 4 ٹوٹی ہوئی ہڈی جس کا گودہ، مغز ظاہر نہ ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میں کان اور سینگ میں عیب کو ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کو تو ناپسند کرے اسے چھوڑ دے، لیکن کسی دوسرے کے اوپر اس کو حرام نہ کر۔