السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الأكل من الضحايا والهدايا التي يتطوع بها صاحبها باب: ان قربانیوں (ضحایا اور ہدایا) کا گوشت کھانے کا بیان جو قربانی کرنے والا بطورِ نفل کرے۔
حدیث نمبر: 10238
وَرُوِّينَا عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: بَعَثَ مَعِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِهَدْيٍ تَطَوُّعًا، فَقَالَ لِي: " كُلْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ثُلُثًا، وَتَصَدَّقْ بِثُلُثٍ، وَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ أَخِي عُتْبَةَ ثُلُثَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن فرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک تمام دنوں سے افضل دن قربانی کا ہے، پھر اس کے بعد آنے والا یعنی دوسرا دن۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے چھ یا پانچ قربانیاں لائی گئیں۔ وہ قربانیاں آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئیں کہ ان میں سے کس سے آپ ﷺ ابتدا کرتے ہیں، جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں تو آپ ﷺ نے آہستہ سے بات کی۔ میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اپنے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ تو اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دل چاہے کاٹ لے۔“