السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يستحب من ذبح صاحب النسيكة نسيكته بيده وجواز الاستنابة فيه ثم حضوره الذبح؛ لما يرجى من المغفرة عند سفوح الدم باب: قربانی کرنے والے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی ذبح کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اور اس میں کسی کو نائب بنانے اور پھر ذبح کے وقت وہاں موجود ہونے کے جواز کا بیان، اس مغفرت کی امید میں جو خون بہتے وقت متوقع ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثُلُثَيْنِ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا " قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرِوَايَةُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئے اور کہو کہ میری نماز، قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمان برداری کرنے والوں میں سے ہوں“، کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انہوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“