❮
❯
حدیث نمبر: 10191
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٣٨٣⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ أَوَّلُ مَنْ كَشَفَ الْعَمَى عَنِ النَّاسِ وَبَيَّنَ لَهُمُ السُّنَّةَ فِي ذَلِكَ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مُقَلَّدًا وَهُوَ مُقِيمٌ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ " فَلَمَّا بَلَغَ النَّاسَ قَوْلُ عَائِشَةَ هَذَا أَخَذُوا بِقَوْلِهَا وَتَرَكُوا فَتْوَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَى فِي هَذَا الْمَعْنَى مَسْرُوقٌ، وَالْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ

زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جس نے لوگوں کو اندھیرے سے نکالا اور ان کے لیے سنت کو واضح کیا، وہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ رحمہا اللہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بناتی تھی، آپ ﷺ اپنی قربانی کو قلادہ ڈال کر روانہ کر دیتے اور بذاتِ خود مدینہ میں مقیم رہتے۔ پھر قربانی کے ذبح ہونے تک کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فرماتے تھے۔ جب لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول پہنچا تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات قبول کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوے کو چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1318»