حدیث نمبر: 10150
قَالَ: وَحَدَّثَ سَعِيدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مِنَ الْأَزْوَاجِ الثَّمَانِيَةِ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، وَالضَّأْنِ، وَالْمَعْزِ عَلَى قَدْرِ الْمَيْسَرَةِ مَا عَظُمَتْ فَهُوَ أَفْضَلُ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوجعفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قربانی کے متعلق سوال کیا کہ وہ کس جانور سے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آٹھ قسم کے جانوروں سے۔“ گویا کہ اس آدمی کو اس میں شک گزرا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سن رکھا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو، چوپائے چرنے والے جانور تمہارے لیے حلال کیے گئے ہیں۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے: ﴿لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾ [سورة الحج: 34] ”تاکہ وہ اللہ کا نام ذکر کریں ان چوپائے جانوروں پر جو ہم نے ان کو عطا کیے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة الأنعام: 142] ”اور چوپائے جانوروں میں سے اس نے بوجھ لادنے والے اور زمین کے ساتھ لگے ہوئے پیدا کیے، لوگو! اللہ نے جو رزق دیا ہے اسے تم کھاؤ۔“ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے: ﴿مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۞ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ﴾ [سورة الأنعام: 143-144] ”(چار جوڑے) دو بھیڑیں (نر اور مادہ) اور دو بکریاں (نر و مادہ)۔ (اے پیغمبر!) آپ کہہ دیں: کیا اللہ نے (ان بھیڑ بکری میں سے) دو نروں کو (یعنی مینڈھے اور بکرے کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (بھیڑ اور بکری کو) یا ان دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے، اگر تم سچے ہو تو مجھے کسی علم (سند) سے بتاؤ۔ اور اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو (نر و مادہ)۔ (اے پیغمبر!) کہہ دیں: کیا اللہ نے دونوں نروں کو (یعنی اونٹ اور بیل کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (یعنی اونٹنی اور گائے کو) یا دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کو۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا اللہ کا یہ فرمان سن رکھا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ﴾ [سورة المائدة: 95] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل نہ کرو۔“ یہاں تک کہ فرمایا: ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾ [سورة المائدة: 95]۔“ اس آدمی نے کہا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: میں نے ایک ہرن کو قتل کیا ہے، میرے اوپر کیا فدیہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ایک قربانی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قربانی کعبہ میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10150
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»