❮
❯
حدیث نمبر: 1014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: لَا يَجُوزُ عَلَى عَمَّارٍ إِذَا كَانَ ذَكَرَ تَيَمُّمَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ نُزُولِ الْآيَةِ إِلَى الْمَنَاكِبِ عَنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، إِذْ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِالتَّيَمُّمِ عَلَى الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ " أوْ يَكُونُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا تَيَمَّمًا وَاحِدًا، ⦗٣٢٥⦘ فَاخْتَلَفَتْ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، فَتَكُونَ رِوَايَةُ ابْنِ الصِّمَّةِ الَّتِي لَمْ تَخْتَلِفْ أَثْبَتَ، وَإِذَا لَمْ تَخْتَلِفْ فَأوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهَا؛ لِأَنَّهَا أوْفَقُ لِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى مِنِ الرِّوَايَتَيْنِ اللَّتَيْنِ رُوِيَتَا مُخْتَلِفَتَيْنِ، أَوْ يَكُونُ إِنَّمَا سَمِعُوا آيَةَ التَّيَمُّمِ عِنْدَ حُضُورِ صَلَاةٍ فَتَيَمَّمُوا فَاحْتَاطُوا فَأَتَوْا عَلَى غَايَةِ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْيَدِ لِأَنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّهُمْ كَمَا لَا يَضُرُّهُمْ لَوْ فَعَلُوهُ فِي الْوُضُوءِ، فَلَمَّا صَارُوا إِلَى مَسْأَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يَجْزِيهِمْ مِنَ التَّيَمُّمِ أَقَلُّ مَا فَعَلُوهُ. وَهَذَا أوْلَى الْمَعَانِي عِنْدِي لِرِوَايَةِ ابْنِ شِهَابٍ مِنْ حَدِيثِ عَمَّارٍ بِمَا وَصَفْتُ مِنَ الدَّلَائِلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا مَنَعَنَا أَنَّ نَأْخُذَ بِرِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي أَنَّ تَيَمَّمَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ عَنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَأَنَّ هَذَا أَشْبَهُ بِالْقُرْآنِ وَأَشْبَهُ بِالْقِيَاسِ، فَإِنَّ الْبَدَلَ مِنَ الشَّيْءِ إِنَّمَا يَكُونُ مِثْلُهُ. وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّيَمُّمِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ: وَبِهَذَا رَأَيْتُ أَصْحَابَنَا يَأْخُذُونَ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ شَيْءٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَعْلَمُهُ ثَابِتًا لَمْ أَعُدَّهُ وَلَمْ أَشُكَّ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ عَمَّارٌ: تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ، وَكَأنَّ قَوْلَهُ: " تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ " لَمْ يَكُنْ عَنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ ثَبَتَ عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ وَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ فَمَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْلَى، وَبِهَذَا كَانَ يُفْتِي سَعْدُ بْنُ سَالِمٍ، فَكَأَنَّهُ فِي الْقَدِيمِ شَكَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ لَمَّا ذَكَرْنَا فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَمَسْحُ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ فِي حَدِيثِ عَمَّارٍ ثَابِتٌ، وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ أَيْضًا جَيِّدٌ بِالشَّوَاهِدِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا، وَهُوَ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى، فَإِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي ابْتِدَاءِ التَّيَمُّمِ حَيْثُ نَزَلَتِ الْآيَةُ وَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يَجْزِيهِمْ مِنَ التَّيَمُّمِ أَقَلُّ مِمَّا فَعَلُوا فَحَدِيثُ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ بَعْدَهُ فَهُوَ أوْلَى بِأَنْ يُتَّبَعَ، وَهُوَ أَشْبَهُ بِالْكِتَابِ وَالْقِيَاسِ، وَهُوَ فِعْلُ ابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مَسَحُ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: اگر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت نبی ﷺ کی موجودگی میں ان کا کندھوں تک تیمم نبی ﷺ کے حکم سے تھا تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ منسوخ ہے، اس لیے کہ روایت کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے ”چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کا حکم دیا ہے“ یا انہوں نے آپ ﷺ سے صرف ایک ہی تیمم روایت کیا ہے۔
(ب) اور ان سے ان کی روایت مختلف ہو گئی، تو ابن صمہ کی روایت جس میں اختلاف نہیں زیادہ ثابت ہے۔ جب اس روایت میں اختلاف نہیں تو اس پر عمل کرنا اولیٰ ہے؛ کیونکہ یہ مختلف فیہ دونوں روایات سے کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہے۔ یا یہ کہ انھوں نے آیت تیمم نماز کے وقت سنی تو تیمم کیا اور احتیاط کرتے ہوئے اس آخری حد تک پہنچ گئے جس پر «اِسْمُ يَدٍ» (ہاتھ کا نام) واقع ہوتا ہے، کیونکہ یہ ان کے لیے نقصان دہ نہیں، جیسے یہ وضو میں نقصان دہ نہیں۔ جب انھوں نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے انھیں بتلایا کہ جو انھوں نے کیا ہے اس سے کم تیمم انھیں کفایت کر جائے گا۔ میرے نزدیک ابن شہاب کی روایت کا، جو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، یہی معنی زیادہ اچھا ہے، ان دلائل کی بنا پر جو میں نے بیان کیے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں چہرے اور ہتھیلیوں کے تیمم کا ذکر ہے، اسے لینے سے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ثابت اس حدیث نے روکا جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”اپنے چہرے اور کلائیوں کا مسح کیا“ اور یہ قرآن اور قیاس کے زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ کسی چیز کا بدل اسی کی مثل ہوتا ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی ہے کہ ”ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ضرب ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے“۔
(ر) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اصحاب کو اسی پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ اس کے متعلق نبی ﷺ سے کچھ نقل کیا گیا ہے، اگر مجھے معلوم ہو کہ وہ ثابت ہے تو میں اس سے آگے نہ بڑھتا اور اس میں کچھ شک نہ کرتا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں کندھوں تک مسح کیا۔ اور ان سے نبی ﷺ کی روایت ہے کہ ”مسح چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے“۔
(س) گویا ان کا یہ کہنا کہ ”ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں کندھوں تک تیمم کیا“ آپ ﷺ کے حکم سے نہیں تھا۔ اگر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی وہ حدیث ثابت ہو جس میں چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا ذکر ہے اور کہنیوں تک والی روایت نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو تو جو روایت نبی ﷺ سے ثابت ہے اس پر عمل اولیٰ ہے اور اسی پر سعید بن سالم فتویٰ دیتے تھے۔ گویا قدیم قول میں انھیں دونوں احادیث کے ثبوت میں شک تھا، ان وجوہات کی بنا پر جو ہم نے ہر ایک کے متعلق ذکر کی ہیں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح ثابت ہے اور وہ بازوؤں پر مسح والی روایت سے زیادہ ثابت ہے، اگرچہ بازوؤں والی روایت بھی ان شواہد کی وجہ سے جید ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، اور وہ ایک دوسرے قصے میں ہے۔ اگر عمار رضی اللہ عنہ والی روایت ابتدائے تیمم کی ہے جب آیت نازل ہوئی اور وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ جو انھوں نے کیا اس سے کم تیمم انھیں کفایت کر جائے گا، تو بازوؤں پر مسح والی روایت اس کے بعد کی ہے اور اس کی پیروی زیادہ اولیٰ ہے؛ وہ کتاب اور قیاس کے زیادہ مشابہ ہے اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل ہے جو ان سے صحیح ثابت ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت کی گئی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی روایت ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»