السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلَاةً لَهُ يُقَالُ لَهَا: صَفِيَّةُ تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ " وَفِي رِوَايَةِ عُقْبَةَ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَجَّ بِمَوْلَاةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَافِيَةُ عَلَى عَجُزِ بَعِيرٍ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْجَدِيدِ: وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعُرْوَةَ مِثْلُ قَوْلِنَا فِي أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ لِلْحَجِّ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا مَحْرَمٌ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ وَفِي الْقَدِيمِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان کی آزاد کردہ لونڈی صفیہ ان کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر مکہ کا سفر کرتی تھیں۔
(ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ، جس کا نام صافیہ تھا، اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے قولِ جدید میں فرمایا: ہمیں سیدہ عائشہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اور عروہ رحمہ اللہ سے ہمارے قول کی مثل بات پہنچی ہے کہ عورت حج کے لیے سفر کر سکتی ہے اگرچہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو۔ اور یہی بات انہوں نے عطاء رحمہ اللہ سے بھی ذکر کی ہے، اور قولِ قدیم میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے۔