السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِيَانِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، ثنا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ "، وَكَانَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخْعِيُّ، يَقُولَانِ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ "، ⦗٣٢٤⦘ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ". قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَذَكَرْتُهُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْهُ، وَقَالَ: مَا أَحْسَنْتَ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الِاخْتِلَافُ فِي مَتْنِ حَدِيثِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارٍ إِنَّمَا وَقَعَ أَكْثَرُهُ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ لِشَكٍّ وَقَعَ لَهُ وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ فَقِيهٌ حَافِظٌ قَدْ رَوَى عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَاقَ الْحَدِيثَ عَلَى الْأَثْبَاتِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ فِيهِ وَحَدِيثُ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ يُوَافِقُهُ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَمَّا حَدِيثُ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَدِّثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا يُعْلَمُ مَنِ الَّذِي حَدَّثَهُ فَيُنْظَرُ فِيهِ، وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَا يَشُكُّ حَدِيثِيُّ فِي صِحَّةِ إِسْنَادِهِ.(الف) ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”کہنیوں تک“ اور حسن اور ابراہیم نخعی بھی یہی کہتے تھے، یعنی ”کہنیوں تک۔“
(ب) عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہنیوں تک۔“ (ج) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: کیا ہی خوب (طریقہ ہے)۔
شیخ کہتے ہیں: یہ اختلاف حدیث ابن ابزیٰ عن عمار میں ہے اور یہ اکثر سلمہ بن کہیل سے ہے جسے شک واقع ہوا ہے۔ حکم بن عتیبہ فقیہ اور حافظ ہیں، انہوں نے اس کو ذر بن عبداللہ سے اور انہوں نے سعید بن عبدالرحمن سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن عبدالرحمن سے سنا، پھر حدیث کو بغیر شک کے بیان کیا۔ امام قتادہ کا عزرہ سے روایت کرنا اس کے موافق ہے۔ لیکن وہ حدیث جو قتادہ محدث عن شعبی بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے۔ اس طرح یہ حدیث دوسری سند سے بھی ثابت ہے جس کی سند صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔