السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قتل النملة للمحرم، وغير المحرم وكذلك ما لا ضرر فيه مما لا يؤكل باب: محرم اور غیر محرم کے لیے چیونٹی مارنے کی کراہت کا بیان، اور اسی طرح ہر اس جانور کو مارنے کی ممانعت جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور اس سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا فَدَخَلْتِ النَّارَ "، قَالَ: ⦗٣٥١⦘ فَقَالَ: وَاللهُ أَعْلَمُ لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا حِينَ حَبَسَتْهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: " فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ " وَيُقَالُ لَهَا وَاللهُ أَعْلَمُ: لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَسَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِهَا، وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا فَتَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو بند رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی؛ تو وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی۔“
راوی کہتے ہیں: اللہ خوب جانتا ہے، اس نے بلی کو بند کرتے وقت نہ کھلایا، نہ پلایا اور نہ ہی چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
ابن وہب کی روایت میں ہے: ”تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی“ اور اس سے کہا جائے گا، واللہ اعلم: نہ تو نے اسے کھلایا اور نہ پلایا جب تو نے اسے بند کیا، اور نہ ہی تو نے اسے چھوڑا تاکہ وہ حشرات الارض ہی کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی۔